یہی حالات ابتدا سے رہے

جاوید اختر

یہی حالات ابتدا سے رہے

جاوید اختر

MORE BYجاوید اختر

    یہی حالات ابتدا سے رہے

    لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے

    ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا

    کیوں گلہ ہم کو پھر ہوا سے رہے

    بحث شطرنج شعر موسیقی

    تم نہیں تھے تو یہ دلاسے رہے

    زندگی کی شراب مانگتے ہو

    ہم کو دیکھو کہ پی کے پیاسے رہے

    اس کے بندوں کو دیکھ کر کہئے

    ہم کو امید کیا خدا سے رہے

    مآخذ:

    • کتاب : Lava (Pg. 45)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY