یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

منظور ہاشمی

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

منظور ہاشمی

MORE BYمنظور ہاشمی

    یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

    ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

    سفر میں اب کے یہ تم تھے کہ خوش گمانی تھی

    یہی لگا کہ کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے

    غلاف گل میں کبھی چاندنی کے پردے میں

    سنا ہے بھیس بدل کر بھی وہ نکلتا ہے

    لکھوں وہ نام تو کاغذ پہ پھول کھلتے ہیں

    کروں خیال تو پیکر کسی کا ڈھلتا ہے

    رواں دواں ہے ادھر ہی تمام خلق خدا

    وہ خوش خرام جدھر سیر کو نکلتا ہے

    امید و یاس کی رت آتی جاتی رہتی ہے

    مگر یقین کا موسم نہیں بدلتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY