یہ دوستی کا تقاضا ہے اس کو دھیان میں رکھ

مبارک انصاری

یہ دوستی کا تقاضا ہے اس کو دھیان میں رکھ

مبارک انصاری

MORE BYمبارک انصاری

    یہ دوستی کا تقاضا ہے اس کو دھیان میں رکھ

    ہمیشہ فاصلہ تھوڑا سا درمیان میں رکھ

    بدلنے والا ہے خورشید تاب کا موسم

    تو کوئی دیر ابھی خود کو سائبان میں رکھ

    سفینہ خود ہی ترا جا لگے گا ساحل سے

    ہوا لپیٹ کے تھوڑی سی بادبان میں رکھ

    ثبوت اپنی شجاعت کا تجھ کو دینا ہے

    شکستہ تیر کڑکتی ہوئی کمان میں رکھ

    ترے سخن کے سدا لوگ ہوں گے گرویدہ

    مٹھاس اردو کی تھوڑی بہت زبان میں رکھ

    مبارکؔ اور کہیں پر پناہ گاہ نہ ڈھونڈ

    تو اپنے آپ کو اللہ کی امان میں رکھ

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY