یہ جو تنہائی ملی آنکھ میں دھرنے کے لیے

جاوید شاہین

یہ جو تنہائی ملی آنکھ میں دھرنے کے لیے

جاوید شاہین

MORE BYجاوید شاہین

    یہ جو تنہائی ملی آنکھ میں دھرنے کے لیے

    اس میں اک دشت بھی ہے میرے گزرنے کے لیے

    جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے

    صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے

    پاؤں سے لپٹی ملی ساری کی ساری یہ زمیں

    یہ فلک پورا ملا آنکھ میں دھرنے کے لیے

    اور پھر کرنا پڑا گوشت کو ناخن سے جدا

    یہ ضروری تھا کسی زخم کو بھرنے کے لیے

    تھی وہ اک تیز ہوا اونچا مجھے لے آئی

    اب زمیں تنگ سی لگتی ہے اترنے کے لیے

    بات کیسی بھی ہو پل بھر کی ندامت کے سوا

    خرچ آتا ہے بھلا کتنا مکرنے کے لیے

    اور پھر ایسا ہوا سامنے میرے شاہینؔ

    جھوٹ کے پاؤں نکل آئے ٹھہرنے کے لیے

    مآخذ:

    • کتاب : Ishq e Tamam (Pg. 386)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY