یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں

منیر نیازی

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں

منیر نیازی

MORE BY منیر نیازی

    یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں

    تو آ کے جا بھی چکا ہے میں انتظار میں ہوں

    مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں

    میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

    در فصیل کھلا یا پہاڑ سر سے ہٹا

    میں اب گری ہوئی گلیوں کے مرگ زار میں ہوں

    بس اتنا ہوش ہے مجھ کو کہ اجنبی ہیں سب

    رکا ہوا ہوں سفر میں کسی دیار میں ہوں

    میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ

    یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

    منیرؔ دیکھ شجر چاند اور دیواریں

    ہوا خزاں کی ہے سر پر شب بہار میں ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites