یہ کیسے نمو کے سلسلے ہیں
شاخوں پہ گلاب جل بجھے ہیں
پھیلی ہے ستم کی آگ ہرسو
ہر سمت الاؤ جل رہے ہیں
ہر آنکھ سوال کر رہی ہے
ہر دل میں ہزار وسوسے ہیں
برسی ہیں بلائیں آسماں سے
دھرتی پہ عذاب اگ رہے ہیں
محفوظ نہیں پناہ گاہیں
کیا عقل رسا کے معجزے ہیں
بازار لہو کی وحشتوں کے
تہذیب کے نام پر سجے ہیں
غیروں پہ ہے انحصار اپنا
سوچیں بھی ادھار مانگتے ہیں
سورج بھی ہے دسترس میں لیکن
ہم روشنی کو ترس گئے ہیں
کیا جانیے عہد نو کب آئے
اب تک تو پرانے سلسلے ہیں
- کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 289)
- مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.