یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہے

ظفر صہبائی

یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہے

ظفر صہبائی

MORE BYظفر صہبائی

    یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہے

    ہر اک پیاسے کو بادل لکھ رہا ہے

    نہ رو گستاخ بیٹے کے عمل پر

    ترا گزرا ہوا کل لکھ رہا ہے

    پڑھو ہر موج آیت کی طرح ہے

    وہ دریا پر مسلسل لکھ رہا ہے

    تھمے پانی کو تبدیلی مبارک

    ہوا کا ہاتھ ہلچل لکھ رہا ہے

    تجھے چھونا نرالا تجربہ تھا

    وہ جھوٹا ہے جو مخمل لکھ رہا ہے

    بنا کر شہر کا نقشہ وہ بچہ

    بڑے حرفوں میں جنگل لکھ رہا ہے

    خدائے امن جو کہتا ہے خود کو

    زمیں پر خود ہی مقتل لکھ رہا ہے

    مآخذ
    • کتاب : aatish zer pa (Pg. 27)
    • Author : zafar sehbai
    • مطبع : zafar sehbai Bhopal (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY