یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے

جگر مراد آبادی

یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے

جگر مراد آبادی

MORE BYجگر مراد آبادی

    یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے

    جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے

    وہی مے خوار ہے جو اس طرح مے خوار ہو جائے

    کہ شیشہ توڑ دے اور بے پیے سرشار ہو جائے

    دل انساں اگر شائستہ اسرار ہو جائے

    لب خاموش فطرت ہی لب گفتار ہو جائے

    ہر اک بے کار سی ہستی بروئے کار ہو جائے

    جنوں کی روح خوابیدہ اگر بیدار ہو جائے

    سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی

    مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے

    حریم ناز میں اس کی رسائی ہو تو کیوں کر ہو

    کہ جو آسودہ زیر سایۂ دیوار ہو جائے

    معاذ اللہ اس کی واردات غم معاذ اللہ

    چمن جس کا وطن ہو اور چمن بے زار ہو جائے

    یہی ہے زندگی تو زندگی سے خودکشی اچھی

    کہ انساں عالم انسانیت پر بار ہو جائے

    اک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھرتھرا اٹھے

    نظر تلوار بن جائے نفس جھنکار ہو جائے

    یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہ

    سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے نعمان شوق

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY