یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گا

قمر عباس قمر

یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گا

قمر عباس قمر

MORE BYقمر عباس قمر

    یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گا

    لٹے ہوؤں کا قبیلہ یہیں سے گزرے گا

    مجھے بچا لے مرے یار سوز امشب سے

    کہ اک ستارۂ وحشت جبیں سے گزرے گا

    تمام سنگ بدستوں میں میرا شیشۂ دل

    خبر نہیں تھی کہ اتنے یقیں سے گزرے گا

    زمین تنگ سے ہفت آسماں کی وسعت تک

    میں ڈھونڈ لاؤں گا تجھ کو کہیں سے گزرے گا

    دیار غیر ادھر آ کے اس کی وسعت ناپ

    اک آسمان مری سرزمیں سے گزرے گا

    جو ایک بار تری راہ سے گزر جائے

    پھر اس کی ضد ہے دوبارہ وہیں سے گزرے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے