یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

احمد مشتاق

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

احمد مشتاق

MORE BY احمد مشتاق

    یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

    اسے ڈھونڈیں کہ اس کو بھول جائیں

    خیالوں کی گھنی خاموشیوں میں

    گھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں

    یہ رستے رہروؤں سے بھاگتے ہیں

    یہاں چھپ چھپ کے چلتی ہیں ہوائیں

    یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے

    اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں

    جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا میں

    انہیں پھر اپنے سینے سے لگائیں

    چلو ایسا مکاں آباد کر لیں

    جہاں لوگوں کی آوازیں نہ آئیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY