یہ وہ سفر ہے جہاں خوں بہا ضروری ہے

فصیح اکمل

یہ وہ سفر ہے جہاں خوں بہا ضروری ہے

فصیح اکمل

MORE BYفصیح اکمل

    یہ وہ سفر ہے جہاں خوں بہا ضروری ہے

    وہی نہ دیکھنا جو دیکھنا ضروری ہے

    بدلتی سمتوں کی تاریخ لکھ رہا ہوں میں

    ہر ایک موڑ پہ اب حادثہ ضروری ہے

    نقوش چہروں کے الفاظ بنتے جاتے ہیں

    کچھ اور اس سے زیادہ بھی کیا ضروری ہے

    یہ سونے والے تجھے سنگسار کر دیں گے

    یہ کہہ کے دیکھ کبھی جاگنا ضروری ہے

    اندھیری رات میں اس رہ گزار پر یارو

    مری طرح سے یہ جلتا دیا ضروری ہے

    جہاں جہاں سے میں گزروں اداس راتوں میں

    وہاں وہاں تری آواز پا ضروری ہے

    بہت سی باتیں زباں سے کہی نہیں جاتیں

    سوال کر کے اسے دیکھنا ضروری ہے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    یہ وہ سفر ہے جہاں خوں بہا ضروری ہے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY