یوں تو صدائے زخم بڑی دور تک گئی

غلام محمد قاصر

یوں تو صدائے زخم بڑی دور تک گئی

غلام محمد قاصر

MORE BYغلام محمد قاصر

    یوں تو صدائے زخم بڑی دور تک گئی

    اک چارہ گر کے شہر میں جا کر بھٹک گئی

    خوشبو گرفت عکس میں لایا اور اس کے بعد

    میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی

    گل کو برہنہ دیکھ کے جھونکا نسیم کا

    جگنو بجھا رہا تھا کہ تتلی چمک گئی

    میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح

    اور چاندنی صلیب پہ آ کر لٹک گئی

    روتی رہی لپٹ کے ہر اک سنگ میل سے

    مجبور ہو کے شہر کے اندر سڑک گئی

    قاتل کو آج صاحب اعجاز مان کر

    دیوار عدل اپنی جگہ سے سرک گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY