یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو

بشیر بدر

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو

بشیر بدر

MORE BY بشیر بدر

    یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو

    وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو

    کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

    یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو

    ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا

    تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

    مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں

    جو کہا نہیں وہ سنا کرو جو سنا نہیں وہ کہا کرو

    کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میں

    جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو

    نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو

    اسے اتنی گرمیٔ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو

    یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے

    یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    متفرق

    متفرق

    Urdu Studio

    Urdu Studio

    ظفر اقبال

    ظفر اقبال

    RECITATIONS

    ظفر اقبال

    ظفر اقبال

    ظفر اقبال

    یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو ظفر اقبال

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites