یونہی فریب نظر کی طناب ٹوٹتی ہے

مشکور حسین یاد

یونہی فریب نظر کی طناب ٹوٹتی ہے

مشکور حسین یاد

MORE BY مشکور حسین یاد

    یونہی فریب نظر کی طناب ٹوٹتی ہے

    قدم بڑھائیے موج سراب ٹوٹتی ہے

    جہاں چٹکتا ہے غنچہ زمین عالم پر

    وہیں پہ تشنگئ آفتاب ٹوٹتی ہے

    نقاب اٹھاؤ تو ہر شے کو پاؤ گے سالم

    یہ کائنات بطور حجاب ٹوٹتی ہے

    درون آب سنورتے ہیں صد حریم گہر

    کنار بحر جو محراب آب ٹوٹتی ہے

    مکاشفات کے ٹکڑے ہیں ذہن کے اوراق

    کتاب اترتی نہیں ہے کتاب ٹوٹتی ہے

    بس ایک آن میں کھلتا ہے قفل دریا کا

    بس ایک آن میں قید حباب ٹوٹتی ہے

    ہیں اس شکست میں خلق جدید کے اسرار

    حقیقت آج بھی ہمراہ خواب ٹوٹتی ہے

    کمال شے ہے کمر بھی حسینۂ غم کی

    جلو میں لے کے کئی انقلاب ٹوٹتی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Quarterly TASTEER Lahore (Pg. 149)
    • Author : Naseer Ahmed Nasir
    • مطبع : Room No.-1,1st Floor, Awan Plaza, Shadman Market, Lahore (Issue No. 5,6 April To Sep. 1998)
    • اشاعت : Issue No. 5,6 April To Sep. 1998

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY