یوں ہی نہیں ہم بولتے جاتے یہ اپنی مجبوری ہے

منموہن تلخ

یوں ہی نہیں ہم بولتے جاتے یہ اپنی مجبوری ہے

منموہن تلخ

MORE BY منموہن تلخ

    یوں ہی نہیں ہم بولتے جاتے یہ اپنی مجبوری ہے

    جونہی کچھ کہہ چکتے ہیں لگتا ہے بات ادھوری ہے

    سب اپنی افواہ بنے ہیں اصل میں کیا تھے بھول گئے

    جینے کی جو صورت ہے سو یہ بھی آج ضروری ہے

    دنیا میری زندگی کے دن کم کرتی جاتی ہے کیوں

    خون پسینہ ایک کیا ہے یہ میری مزدوری ہے

    اپنے بعد ہی دنیا میں ٹھہراؤ جو آئے تو آئے

    جب تک ہم زندہ ہیں تب تک ہر اک دور عبوری ہے

    ڈھونڈ رہے ہیں کس کو لوگ شکاری جیسی نظروں سے

    صف در صف موجود ہوں میں تو ہر اک صف تو پوری ہے

    سب اک دوسرے کو نظروں سے بس یہ دلاسہ دیتے ہیں

    ہیں تو ہم سب پاس ہی بس اندر کی یہ اک دوری ہے

    اتنی ساری آوازوں میں شاید سننے والے کو

    بس اتنا ہی یاد رہے گا میری بات ضروری ہے

    کوئی بہانا مل جائے تو ہاتھ نہیں ہم آنے کے

    دیر یہ ہے چل دینے میں تیاری تو پوری ہے

    تلخؔ ہمارے ہوش کے عالم کا ہے رنگ سخن کچھ اور

    جس پر وجد میں ہے اک دنیا وہ تو غیر شعوری ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY