ضبط نالہ سے آج کام لیا

جلیل مانک پوری

ضبط نالہ سے آج کام لیا

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    ضبط نالہ سے آج کام لیا

    گرتی بجلی کو میں نے تھام لیا

    پائے ساقی پہ توبہ لوٹ گئی

    ہاتھ میں اس ادا سے جام لیا

    پھول کا جام جب گرا کوئی

    ہم نے پلکوں سے بڑھ کے تھام لیا

    آفریں تجھ کو حسرت دیدار

    چشم تر سے زباں کا کام لیا

    دل جگر نذر کر دیے مے کے

    دے کے دو شیشے ایک جام لیا

    الٹی اک ہاتھ سے نقاب ان کی

    ایک سے اپنے دل کو تھام لیا

    ترک مے کی ہوئی تلافی یوں

    نام ساقی کا صبح و شام لیا

    آ گئی کیا کسی کی یاد جلیلؔ

    چلتے چلتے جگر کو تھام لیا

    مأخذ :
    • کتاب : Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 305)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY