ضبط کی حد سے گزر کر خار تو ہونا ہی تھا

سالم شجاع انصاری

ضبط کی حد سے گزر کر خار تو ہونا ہی تھا

سالم شجاع انصاری

MORE BYسالم شجاع انصاری

    ضبط کی حد سے گزر کر خار تو ہونا ہی تھا

    شدت غم کا مگر اظہار تو ہونا ہی تھا

    آئنے کب تک سلامت رہتے شہر سنگ میں

    ایک دن پتھر کوئی بیدار تو ہونا ہی تھا

    خاک میں ملنا ہی تھا اک دن غرور زندگی

    ریت کی دیوار کو مسمار تو ہونا ہی تھا

    کس طرح کرتے نظر انداز اپنے آپ کو

    اک نہ اک دن زندگی سے پیار تو ہونا ہی تھا

    کوئی آمادہ نہ تھا راہیں بدلنے کے لیے

    راستہ ملت کا پھر دشوار تو ہونا ہی تھا

    جس طرف دیکھا ادھر اپنے ہی تھے خنجر بکف

    پھر مرے ایثار کو تلوار تو ہونا ہی تھا

    خواہشیں بے ربط تھیں بے ذوق تھا دست طلب

    ایسی حاجت کا صلہ انکار تو ہونا ہی تھا

    ایک دن کہنا ہی تھا اک دوسرے کو الوداع

    آخرش سالمؔ جدا اک بار تو ہونا ہی تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY