زخم اب تک وہی سینے میں لیے پھرتا ہوں

عمران عامی

زخم اب تک وہی سینے میں لیے پھرتا ہوں

عمران عامی

MORE BYعمران عامی

    زخم اب تک وہی سینے میں لیے پھرتا ہوں

    کوفے والوں کو مدینے میں لیے پھرتا ہوں

    جانے کب کس کی ضرورت مجھے پڑ جائے کہاں

    آگ اور خاک سفینے میں لیے پھرتا ہوں

    ریت کی طرح پھسلتے ہیں مری آنکھوں سے

    خواب ایسے بھی خزینے میں لیے پھرتا ہوں

    ایک ناکام محبت مرا سرمایہ ہے

    اور کیا خاک دفینے میں لیے پھرتا ہوں

    دل پہ لکھا ہے کسی اور پری زاد کا نام

    نقش اک اور نگینے میں لیے پھرتا ہوں

    اس لیے سب سے الگ ہے مری خوشبو عامیؔ

    مشک مزدور پسینے میں لیے پھرتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY