زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت

میر تقی میر

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت

    دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت

    جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیے

    ہم تو اپنی اور سے آئے بہت

    دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹک

    ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت

    پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

    پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

    گر بکا اس شور سے شب کو ہے تو

    روویں گے سونے کو ہم سایے بہت

    وہ جو نکلا صبح جیسے آفتاب

    رشک سے گل پھول مرجھائے بہت

    میرؔ سے پوچھا جو میں عاشق ہو تم

    ہو کے کچھ چپکے سے شرمائے بہت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY