زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں

بلقیس ظفیر الحسن

زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں

بلقیس ظفیر الحسن

MORE BYبلقیس ظفیر الحسن

    زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں

    اتنے سادہ بھی نہیں ہم کہ نہ اتنا سمجھیں

    زخم کا اپنے مداوا کسے منظور نہیں

    ہاں مگر کیوں کسی قاتل کو مسیحا سمجھیں

    شعبدہ بازی کسی کی نہ چلے گی ہم پر

    طنز و دشنام کو کہتے ہو لطیفہ سمجھیں

    خود پہ یہ ظلم گوارا نہیں ہوگا ہم سے

    ہم تو شعلوں سے نہ گزریں گے نہ سیتا سمجھیں

    چھوڑیئے پیروں میں کیا لکڑیاں باندھے پھرنا

    اپنے قد سے مرا قد، شوق سے چھوٹا سمجھیں

    کوئی اچھا ہے تو اچھا ہی کہیں گے ہم بھی

    لوگ بھی کیا ہیں ذرا دیکھیے کیا کیا سمجھیں

    ہم تو بیگانے سے خود کو بھی ملے ہیں بلقیسؔ

    کس توقع پہ کسی شخص کو اپنا سمجھیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    بلقیس ظفیر الحسن

    بلقیس ظفیر الحسن

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY