ذرا ہٹے تو وہ محور سے ٹوٹ کر ہی رہے

علی اکبر عباس

ذرا ہٹے تو وہ محور سے ٹوٹ کر ہی رہے

علی اکبر عباس

MORE BY علی اکبر عباس

    ذرا ہٹے تو وہ محور سے ٹوٹ کر ہی رہے

    ہوا نے نوچا انہیں یوں کہ بس بکھر ہی رہے

    ہیں بے نشاں جو اڑے تھے بگولہ زد ہو کر

    زمیں پہ لیٹنے والے زمین پر ہی رہے

    بہار جھاڑیوں پر ٹوٹ ٹوٹ کر برسی

    دعائیں مانگتے اشجار بے ثمر ہی رہے

    خوشا یہ سایہ و خوشبو کہ طائر خوش رنگ

    نہ پھر یہ وقت رہے اور نہ یہ شجر ہی رہے

    بنائیں ایسا مکاں اب کہ چاند اور سورج

    جدھر بھی جائیں مگر روشنی ادھر ہی رہے

    مآخذ:

    • کتاب : Ber Aab e Neel (Pg. 83)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY