ذہن میں کچھ قیاس رہتا ہے

صابر شاہ صابر

ذہن میں کچھ قیاس رہتا ہے

صابر شاہ صابر

MORE BYصابر شاہ صابر

    ذہن میں کچھ قیاس رہتا ہے

    نصف خالی گلاس رہتا ہے

    ہر طرف رنگ و نور ہے پھر بھی

    شہر کیوں کر اداس رہتا ہے

    مفلسی میں بھی ہاتھ پھیلائیں

    کچھ تو عزت کا پاس رہتا ہے

    امن کا قتل ہو گیا جب سے

    شہر اب بد حواس رہتا ہے

    تیز رفتار زندگانی میں

    حادثہ آس پاس رہتا ہے

    دور پتھر کا پھر سے لوٹ آیا

    اب جہاں بے لباس رہتا ہے

    ہم فقیروں کا طرز ہے صابرؔ

    تن پہ سادہ لباس رہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY