ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہے

عفت زریں

ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہے

عفت زریں

MORE BY عفت زریں

    ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہے

    ایک ہی گھر میں بہت سے اجنبی رہتے رہے

    دور تک ساحل پہ دل کے آبلوں کا عکس تھا

    کشتیاں شعلوں کی دریا موم کے بہتے رہے

    کیسے پہنچے منزلوں تک وحشتوں کے قافلے

    ہم سرابوں سے سفر کی داستاں کہتے رہے

    آنے والے موسموں کو تازگی ملتی گئی

    اپنی فصل آرزو کو ہم خزاں کہتے رہے

    کیسے مٹ پائیں گی زریںؔ یہ حدیں افکار کی

    ٹوٹ کر دل کے کنارے دور تک بہتے رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY