زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے

ابراہیم اشکؔ

زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے

ابراہیم اشکؔ

MORE BYابراہیم اشکؔ

    زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے

    اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے

    تو اجالے کی طرح آ کے لپٹ جا مجھ سے

    اک اندھیرا سا ادھر اور ادھر ہے کیوں ہے

    روز ملتا ہے کوئی دل کو لبھانے والا

    پھر بھی تو ہی مرا محبوب نظر ہے کیوں ہے

    گھر کی تصویر بھی صحرا کی طرح ہے لیکن

    فرق اتنا ہے کہ دیوار ہے در ہے کیوں ہے

    جس کو دیکھوں وہی برباد ہوا جاتا ہے

    آدمی کیا ہے محبت کا کھنڈر ہے کیوں ہے

    میں سمندر ہوں مگر پیاس ہے قسمت میری

    میرے دامن میں اگر اشکؔ گہر ہے کیوں ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY