زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا

اجمل صدیقی

زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا

اجمل صدیقی

MORE BYاجمل صدیقی

    زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا

    جانے رہتے ہیں ابھی کھیل دکھانے کیا کیا

    صرف آنکھوں کی نمی ہی تو نہیں مظہر غم

    کچھ تبسم بھی جتا دیتے ہیں جانے کیا کیا

    کھٹکیں اس آنکھ میں تو دھڑکیں کبھی اس دل میں

    در بدر ہو کے بھی اپنے ہیں ٹھکانے کیا کیا

    بول پڑتا تو مری بات مری ہی رہتی

    خامشی نے ہیں دئے سب کو فسانے کیا کیا

    شہر میں رنگ جما گاؤں میں فصلیں اجڑیں

    حشر اٹھایا بنا موسم کی گھٹا نے کیا کیا

    خواب و امید کا حق، آہ کا فریاد کا حق

    تجھ پہ وار آئے ہیں یہ تیرے دوانے کیا کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY