زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں

کرشن بہاری نور

زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں

کرشن بہاری نور

MORE BYکرشن بہاری نور

    زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں

    اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں

    اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں

    میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں

    زندگی موت تیری منزل ہے

    دوسرا کوئی رستہ ہی نہیں

    سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے

    جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں

    زندگی اب بتا کہاں جائیں

    زہر بازار میں ملا ہی نہیں

    جس کے کارن فساد ہوتے ہیں

    اس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں

    کیسے اوتار کیسے پیغمبر

    ایسا لگتا ہے اب خدا ہی نہیں

    چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو

    آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

    اپنی رچناؤں میں وہ زندہ ہے

    نورؔ سنسار سے گیا ہی نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    کرشن بہاری نور

    کرشن بہاری نور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY