مزاحیہ / طنزیہ شعر


مزاح ہمیں، کچھ دیر کے لیے ہی سہی، اپنے مسائل اور تکلیفوں کو بھول کر ہنسنے کا موقع دے کر تناوّ اور کشیدگی سے نجات دلاتا ہے۔ دوسری طرف طنز ہمیں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ناہمواریوں، تضادات اور منافقوں سے آگاہ کرتا ہے۔ ریختہ پر پیش ہیں اردو شاعری اور نثر میں مزاح اور طنز کی چند دلچسپ اور توجہ انگیز معیاری تحریریں

معنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

بال اپنے بڑھاتے ہیں کس واسطے دیوانے


کیا شہر محبت میں حجام نہیں ہوتا

بیگم بھی ہیں کھڑی ہوئی میدان حشر میں


مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ

بیٹے کو چیک سمجھ لیا اسٹیٹ بینک کا


سمدھی تلاش کرنے لگے ہائی رینک کا

بوٹ ڈاسن نے بنایا میں نے اک مضمون لکھا


ملک میں مضموں نہ پھیلا اور جوتا چل گیا

بتوں کے پہلے بندے تھے مسوں کے اب ہوئے خادم


ہمیں ہر عہد میں مشکل رہا ہے با خدا ہونا

چیز ملتی ہے ظرف کی حد تک


اپنا چمچہ بڑا کرے کوئی

کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا


جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

ایک شادی تو ٹھیک ہے لیکن


ایک دو تین چار حد کر دی

گوگل لگا کے آنکھ پر چلنے لگے حسین


وہ لطف اب کہاں نگہ نیم باز کا

ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں


کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

حقیقت کو چھپایا ہم سے کیا کیا اس کے میک اپ نے


جسے لیلیٰ سمجھ بیٹھے تھے وہ لیلیٰ کی ماں نکلی

ہونٹ کی شیرینیاں کالج میں جب بٹنے لگیں


چار دن کے چھوکرے کرنے لگے فرہادیاں

ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا


کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جا کر

اک عجب چیز ہے شرافت بھی


اس میں شر بھی ہے اور آفت بھی

علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیں


چاٹ جاتا ہے کتابیں امتحاں کوئی نہیں

اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم


وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا

جب بھی والد کی جفا یاد آئی


اپنے دادا کی خطا یاد آئی

جب غم ہوا چڑھا لیں دو بوتلیں اکٹھی


ملا کی دوڑ مسجد اکبرؔ کی دوڑ بھٹی

لیڈری میں بھلا ہوا ان کا


بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میں


شیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہو

میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ


علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

مے خانۂ ہستی کا جب دور خراب آیا


کلڑھ میں شراب آئی پتے پہ کباب آیا

مرغیاں کوفتے مچھلی بھنے تیتر انڈے


کس کے گھر جائے گا سیلاب غذا میرے بعد

رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں


کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

تعلق عاشق و معشوق کا تو لطف رکھتا تھا


مزے اب وہ کہاں باقی رہے بیوی میاں ہو کر