مرثیہ



لفظ مرثیہ عربی لفظ ’رثا‘ سے مشتق جس کے معنی ہیں کسی کی وفات پر رنج و غم ظاہر کرنااور رونا۔ اردو شاعری کی ایک صنف کی حیثیت سے کسی بھی عزیز کی وفات پر اظہار غم سے متعلق نظم کو مرثیہ کہا جا سکتا ہے مگر اصطلاحاً مرثیہ اس نظم سے مقصود ہے جس کا تعلق میدان کربلا میں امام حسینؓ کی شہادت کے موضوع سے ہو۔ مرثیہ عموماً ’مسدس‘ کی ہیئت میں لکھا جاتا ہے۔

آپ دیکھ رہے ہیں

مرثیہ
(۱) تمامی حجت کی خاطر امام
(۱۰) سنو یہ قصۂ جانکاہ کربلاے حسین
(۱۱) دل تنگ ہو مدینے سے جب اٹھ چلا حسین
(۱۲) نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا
(۱۳) وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن
(۱۴) سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایا
(۱۵) ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا
(۱۶) چاروں طرف ہے شور و فغاں وامصیبتا
(۱۷) قاسم کی شادی اس دم رچائی
(۱۸) نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسین
(۱۹) کہانی رات تھی آل نبی کی
(۲) محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال
(۲۰) کیا گردوں نے فتنے کو اشارہ
(۲۱) نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست
(۲۲) کرتا ہے یوں بیان سخن ران کربلا
(۲۳) ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی
(۲۴) آئی ہے شب قتل حسین ابن علی کی
(۲۵) چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کا
(۲۶) اس گل باغ امامت کے ہیں پھول
(۲۷) پھر کیا یہ دھوم ہے کہ جہاں ہے سیہ تمام
(۲۸) بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار
(۲۹) حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا
(۳) تحیات اے عزیزاں بابت آل پیمبرؐ ہے
(۳۰) حسین ابن علی عالی نسب تھا
(۳۱) فلک نے ہونا اکبر کا نہ چاہا
(۳۲) دکھ سے ترے کیا کلام
(۳۳) الوداع اے افتخار نوع انساں الوداع
(۳۴) کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسینا
(۴) خاک تیرے فرق پر اے بے مروت آسماں
(۵) فلک قتل سبط پیمبر ہے کل
(۶) امت تھی نبیؐ کی کہ یہ کفار حسینا
(۷) گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ
(۸) آیا محرم غمگیں رہا کر
(۹) ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی
آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
اہل عالم پہ عیاں ہے ہمہ دانی میری
بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہے
پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئی
تمام خلق کا خدمت گزار ہے پانی
جب اصغر معصوم کی گردن پہ لگا تیر
جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
جب سرنگوں ہوا علم کہکشان شب
جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
حسینؑ اور انقلاب
دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے (ردیف .. ن) (ردیف .. ن)
روشن کیا جو حق نے چراغ انتقام کا
شام غریباں
عظمت انسان
فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
کس نور کی مجلس میں مری جلوہ گری ہے
کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے
میں زینت اورنگ سلیمان سخن ہوں
ن ,چارہ_گر بھی جو یوں گزر جائیں
نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
نیرنگیٔ ریاض جہاں یادگار ہے
ہاں نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو
یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 61 of 61 items