آنکھیں نکل آئی ہیں مری سانس رکی ہے

ماچس لکھنوی

آنکھیں نکل آئی ہیں مری سانس رکی ہے

ماچس لکھنوی

MORE BYماچس لکھنوی

    آنکھیں نکل آئی ہیں مری سانس رکی ہے

    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    دعوت کی تری بزم میں کیوں دھوم مچی ہے

    کیا بات ہے کیا کوئی نئی جیب کٹی ہے

    واعظ کو جو دیکھو تو گھٹا ٹوپ اندھیرا

    ساقی کو جو دیکھو تو کرن پھوٹ رہی ہے

    کیا ہے جو نہیں یہ اثر ربط محبت

    روئے تو ہیں وہ اور مری آواز پڑی ہے

    سائے کی تمنا میں جہاں بیٹھ گیا ہوں

    چندیا پہ وہیں تاک کے دیوار گری ہے

    چھوٹے نہیں چھٹتی ہے ترے وصل کی حسرت

    یہ جونک مرے دل کا لہو چوس رہی ہے

    وہ ان کا زمانہ تھا جہاں عقل بڑی تھی

    یہ میرا زمانہ ہے یہاں بھینس بڑی ہے

    پھر کیا ہے جو ماچسؔ نہیں یہ سوز محبت

    اک برق سی رگ رگ میں مرے کوند رہی ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے