پوسٹ مین اس بت کا خط لاتا نہیں

اختر شیرانی

پوسٹ مین اس بت کا خط لاتا نہیں

اختر شیرانی

MORE BY اختر شیرانی

    پوسٹ مین اس بت کا خط لاتا نہیں

    اور جو لاتا ہے پڑھا جاتا نہیں

    عاشقی سے کیوں ہم استعفیٰ نہ دیں

    ہوٹلوں کا بل دیا جاتا نہیں

    شیخ جی موٹر پہ حج کو جائیے

    عہد نو میں اونٹ کام آتا نہیں

    بوسہ لیں اس سرو قد کا کس طرح

    تار پر ہم سے چڑھا جاتا نہیں

    عاشقوں پر ظلم کرنا چھوڑ دیں

    کیوں بے قاصد جا کے سمجھاتا نہیں

    رات دن فرمائشیں زیور کی ہیں

    ہم سے اب عاشق رہا جاتا نہیں

    جل گئی سگریٹ سے داڑھی شیخ کی

    یہ مگر فیشن سے باز آتا نہیں

    فربہی کا طنز کیوں مشتاق پر

    تیری چکی سے تو پسواتا نہیں

    فیس پہلے جب تلک رکھوا نہ لے

    ڈاکٹر اپنے بھی گھر جاتا نہیں

    بیکری میں نوکری کرنی پڑی

    وہ سوائے کیک کچھ کھاتا نہیں

    تیری فرقت میں بہت فاقے کٹے

    آ کہ اب بھوکا رہا جاتا نہیں

    کب سے ہے مہمان تو اے ہجر یار

    بھائی میرے گھر سے کیوں جاتا نہیں

    او ستمگر روکنا موٹر ذرا

    میرے خچر سے چلا جاتا نہیں

    لانڈری کھولی تھی اس کے عشق میں

    پر وہ کپڑے ہم سے دھلواتا نہیں

    حضرت ابن بطوطہ کی غزل

    ضد کے مارے وہ صنم گاتا نہیں

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY