میریاتغزل نمبر
ا تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا۰۰۰۱
ا جامۂ مستی عشق اپنا مگر کم گھیر تھا۰۰۰۴
ا اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا۰۰۰۵
ا شب ہجر میں کم تظلم کیا۰۰۰۶
ا الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۰۰۰۷
ا چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا۰۰۰۸
ا تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا۰۰۱۰
ا جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا۰۰۱۱
ا منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا۰۰۱۲
ا وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہوگیا۰۰۱۳
ا بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا۰۰۱۴
ا دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا۰۰۱۵
ا فرہاد ہاتھ تیشے پہ ٹک رہ کے ڈالتا۰۰۱۹
ا مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا۰۰۲۱
ا سنیو جب وہ کبھو سوار ہوا۰۰۲۲
ا مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا۰۰۲۳
ا مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا۰۰۲۴
ا شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا۰۰۲۵
ا ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا۰۰۲۶
ا گل کو محبوب ہم قیاس کیا۰۰۳۱
ا مفت آبروے زاہد علامہ لے گیا۰۰۳۲
ا اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا۰۰۳۳
ا مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمال راہ کا۰۰۳۵
ا ایسی گلی اک شہر اسلام نہیں رکھتا۰۰۳۶
ا دل سمجھا نہ محبت کو کچھ ان نے کیا یہ خیال کیا۰۰۴۱
ا دل سے شوق رخ نکو نہ گیا۰۰۴۳
ا گرچہ سردار مزوں کا ہے امیری کا مزا۰۰۵۱
ا خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا۰۰۵۷
ا تابہ مقدور انتظار کیا۰۰۵۸
ا پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا۰۰۶۰
ا دکھ اب فراق کا ہم سے سہا نہیں جاتا۰۰۶۱
ا جیتے جی کوچۂ دلدار سے جایا نہ گیا۰۰۶۵
ا گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا۰۰۶۷
ا گلیوں میں اب تلک تو مذکور ہے ہمارا۰۰۶۹
ا رونا ٹک اک تھما تو غم بیکراں سہا۰۰۷۲
ا ہاتھ سے تیرے اگر میں ناتواں مارا گیا۰۰۷۶
ا اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا۰۰۷۸
ا خواب میں تو نظر جمال پڑا۰۰۸۱
ا یہ حسرت ہے مروں اس میں لیے لبریز پیمانا۰۰۸۴
ا بارہا گور دل جھنکا لایا۰۰۸۵
ا کیا عجب پل میں اگر ترک ہو اس سے جاں کا۰۰۸۶
ا ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا۰۰۸۸
ا یاں نام یار کس کا ورد زباں نہ پایا۰۰۹۰
ا پھر شب نہ لطف تھا نہ وہ مجلس میں نور تھا۰۰۹۱
ا فلک کا منھ نہیں اس فتنے کے اٹھانے کا۰۰۹۴
ا کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا۰۰۹۵
ا اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا۰۰۹۷
ا غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا۰۱۰۲
ا واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا۰۱۰۴
ا اس چہرے کی خوبی سے عبث گل کو جتایا۰۱۰۶
ا تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا۰۱۰۸
ا جی اپنا میں نے تیرے لیے خوار ہو دیا۰۱۱۰
ا خط منھ پہ آئے جاناں خوبی پہ جان دے گا۰۱۱۱
ا تیرے قدم سے جا لگی جس پہ مرا ہے سر لگا۰۱۱۷
ا سر دور فلک بھی دیکھوں اپنے روبرو ٹوٹا۰۱۲۰
ا آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر یار دیکھنا۰۱۲۱
ا جو اس شور سے میر روتا رہے گا۰۱۲۳
ا تجھ سے ہر آن مرے پاس کا آنا ہی گیا۰۱۲۵
ا گئے قیدی ہو ہم آواز جب صیاد آ لوٹا۰۱۲۷
ا مغاں مجھ مست بن پھر خندۂ ساغر نہ ہووے گا۰۱۲۹
ا مجھے زنہار خوش آتا نہیں کعبے کا ہمسایا۰۱۳۰
ا کام پل میں مرا تمام کیا۰۱۳۲
ا آیا تھا خانقہ میں وہ نور دیدگاں کا۰۱۳۴
ا صحرا میں سیل اشک مرا جابجا پھرا۰۱۳۵
ا کام میرا بھی ترے غم میں کہوں ہوجائے گا۰۱۴۱
ا سینہ دشنوں سے چاک تا نہ ہوا۰۱۴۲
ا اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا۰۱۴۵
ا نہیں ایسا کوئی میرا جو ماتم دار ہوئے گا۰۱۴۶
ا وہ جو پی کر شراب نکلے گا۰۱۴۷
ا جب کہ تابوت مرا جاے شہادت سے اٹھا۰۱۴۸
ا طفل مطرب جو میرے ہاتھ آتا۰۱۴۹
ا ہو بلبل گلگشت کہ اک دن ہے خزاں کا۰۱۵۰
ا قصہ تمام میرؔ کا شب کو سنا کیا۰۱۵۱
ا مئے گلگوں کی بو سے بسکہ میخانہ مہکتا تھا۰۱۵۲
ا اٹھوں نہ خاک سے کشتہ میں کم نگاہی کا۰۱۵۳
ا یک پارہ جیب کا بھی بجا میں نہیں سیا۰۱۵۴
ا گرچہ امید اسیری پہ میں ناشاد آیا۰۱۵۵
ا جواے قاصد وہ پوچھے میرؔ بھی ایدھر کو چلتا تھا۰۱۵۶
ا کیا کہیے عشق حسن کا آپھی طرف ہوا۰۱۵۷
ا مجھے تو نور نظر نے تنک بھی تن نہ دیا۰۱۵۸
ا تھا زعفراں پہ ہنسنے کو دل جس کی گرد کا۰۱۵۹
ا نظر میں آوے گا جب جی کا کھونا۰۱۶۰
ا بیتابیوں کے جور سے میں جب کہ مر گیا۰۱۶۱
ا خیال چھوڑ دے واعظ تو بے گناہی کا۰۱۶۲
ا دل گیا رسوا ہوئے آخر کو سودا ہوگیا۰۱۶۳
ا کس طور تونے باغ میں آنکھوں کے تیں ملا۰۱۶۴
ا ہر شب جہاں میں جلتے گذرتی ہے اے نسیم۰۱۶۵
ا ہے لب نمکیں علاج میرا۰۱۶۶
ا ابر جب مجھ خاک پر سے ہوگیا۰۱۶۷
ا ترے لعل جاں بخش کو ہم نے بتلا۰۱۶۸
ا ایک عالم ہے کشتہ اس لب کا۰۱۶۹
ا بخت دشمن بلند تھے ورنہ۰۱۷۰
ا دل تاب ٹک بھی لاتا تو کہنے میں کچھ آتا۰۱۷۱
ا پاے پر آبلہ سے مجھ کو بنی گئی ہے۰۱۷۲
ا تجھ بن چمن میں جو تھا دل کو ٹٹولتا تھا۰۱۷۳
ب رکھتا ہے ہم سے وعدہ ملنے کا یار ہر شب۰۱۷۴
ب اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پرآب روز و شب۰۱۷۵
ب رویا کیے ہیں غم سے ترے ہم تمام شب۰۱۷۶
ب ہوتا نہ پاے سرو جو جوے چمن میں آب۰۱۷۷
ب کس کی مسجد کیسے میخانے کہاں کے شیخ و شاب۰۱۷۸