عشق خدائی خراب ہے ایسا جس سے گئے ہیں گھر کے گھر

میر تقی میر

عشق خدائی خراب ہے ایسا جس سے گئے ہیں گھر کے گھر

میر تقی میر

MORE BY میر تقی میر

    عشق خدائی خراب ہے ایسا جس سے گئے ہیں گھر کے گھر

    کعبہ و دیر کے ایوانوں کے گرے پڑے ہیں در کے در

    حج سے جو کوئی آدمی ہو تو سارا عالم حج ہی کرے

    مکے سے آئے شیخ جی لیکن وے تو وہی ہیں خر کے خر

    رنج و تعب میں مرتے دیکھے ہم نے ممسک دولت مند

    جی کے جی بھی عبث جاتے ہیں ان لوگوں کے زر کے زر

    مسلم و کافر کے جھگڑے میں جنگ و جدل سے رہائی نہیں

    لوتھوں پہ لوتھیں گرتی رہیں گی کٹتے رہیں گے سر کے سر

    سخت مصیبت عشق میں یہ ہے جانیں چلی جاتی ہیں لیک

    ہاتھ سروں پر ماریں گے تو بند رہیں گے گھر کے گھر

    کب سے گرمی عشق نے میرے چشمۂ چشم کو خشک کیا

    کپڑے گلے سب تن کے لیکن وے ہیں اب تک ترکے تر

    نکلے اب کے قفس میں شاید کوئی کلی تو نکلے میرؔ

    سارے طیر شگفتہ چمن کے ٹوٹے گئے وے پر کے پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY