عورت

MORE BYحبیب جالب

    INTERESTING FACT

    فروری، 1984 میں حبیب جالب نے آمر ضیا الحق کے خلاف خواتین کے جلسۂ عام میں تقریر کی ۔ اسی جلسے میں حبیب جالب پہ لاٹھی چارج ہوئی تھی ۔

    بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا

    دیوار ہے وہ اب تک جس میں تجھے چنوایا

    دیوار کو آ توڑیں بازار کو آ ڈھائیں

    انصاف کی خاطر ہم سڑکوں پہ نکل آئیں

    مجبور کے سر پر ہے شاہی کا وہی سایا

    بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا

    تقدیر کے قدموں پر سر رکھ کے پڑے رہنا

    تائید ستم گر ہے چپ رہ کے ستم سہنا

    حق جس نے نہیں چھینا حق اس نے کہاں پایا

    بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا

    کٹیا میں ترا پیچھا غربت نے نہیں چھوڑا

    اور محل سرا میں بھی زردار نے دل توڑا

    اف تجھ پہ زمانے نے کیا کیا نہ ستم ڈھایا

    بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا

    تو آگ میں اے عورت زندہ بھی جلی برسوں

    سانچے میں ہر اک غم کے چپ چاپ ڈھلی برسوں

    تجھ کو کبھی جلوایا تجھ کو کبھی گڑوایا

    بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا

    مآخذ :
    • کتاب : Kulliyat Habeeb Jalib (Pg. 217)

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY