ایک مکڑا اور مکھی

علامہ اقبال

ایک مکڑا اور مکھی

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    دلچسپ معلومات

    (ماخوذ ، بچوں کے لیے) حصہ اول : 1905 تک ( بانگ درا

    اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا

    اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمہارا

    لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت

    بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا

    غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے

    اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا

    آؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میری

    وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا

    مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی

    حضرت کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا

    اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے

    جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا پھر نہیں اترا

    مکڑے نے کہا واہ فریبی مجھے سمجھے

    تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہوگا

    منظور تمہاری مجھے خاطر تھی وگرنہ

    کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا

    اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے

    ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں برا کیا

    اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں

    باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹیا

    لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے

    دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا

    مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے

    ہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا

    مکھی نے کہا خیر یہ سب ٹھیک ہے لیکن

    میں آپ کے گھر آؤں یہ امید نہ رکھنا

    ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے

    سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا

    مکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس کی

    پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا

    سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں

    دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا

    یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی

    اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبہ

    ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت

    ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا

    آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں

    سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا

    یہ حسن یہ پوشاک یہ خوبی یہ صفائی

    پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا

    مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسيجي

    بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا

    انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں

    سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا

    یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے

    پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا

    بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی

    آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا

    مأخذ :
    • کتاب : کلیات اقبال (Pg. 29)
    • Author : علامہ اقبال
    • مطبع : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی (2014)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY