ایک پہاڑ اور گلہری

علامہ اقبال

ایک پہاڑ اور گلہری

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    دلچسپ معلومات

    (ماخوذ از ایمرسن ، بچوں کے لئے (حصہ اول : 1905 تک ( بانگ درا) ( ایمرسن کی نظموں سے متاشر ) بچوں کے لئے

    کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے

    تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے

    ذرا سی چیز ہے اس پر غرور! کیا کہنا!

    یہ عقل اور یہ سمجھ یہ شعور! کیا کہنا!

    خدا کی شان ہے نا چیز چیز بن بیٹھیں!

    جو بے شعور ہوں یوں با تمیز بن بیٹھیں!

    تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے

    زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے

    جو بات مجھ میں ہے تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں

    بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں!

    کہا یہ سن کے گلہری نے منہ سنبھال ذرا

    یہ کچی باتیں ہیں دل سے انہیں نکال ذرا!

    جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا!

    نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا

    ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے

    کوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اس کی حکمت ہے

    بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے

    مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے

    قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں

    نری بڑائی ہے! خوبی ہے اور کیا تجھ میں

    جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو

    یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو

    نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں

    کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

    مأخذ :
    • کتاب : کلیات اقبال (Pg. 31)
    • Author : علامہ اقبال
    • مطبع : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی (2014)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY