ابد

MORE BYفہمیدہ ریاض

    یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرا

    یہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھل

    یہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آ رہا ہے

    یہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیں

    لہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہے

    یہ چھوٹتی نبض، رکتی دھڑکن، یہ ہچکیاں سی

    گلاب و کافور کی لپٹ تیز ہو گئی ہے

    یہ آبنوسی بدن، یہ بازو، کشادہ سینہ

    مرے لہو میں سمٹتا سیال ایک نکتے پہ آ گیا ہے

    مری نسیں آنے والے لمحے کے دھیان سے کھنچ کے رہ گئی ہیں

    بس اب تو سرکا دو رخ پہ چادر

    دیے بجھا دو

    مأخذ :
    • کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 101)
    • Author : Zahid Hasan
    • مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
    • اشاعت : 2002

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY