ابھی مجھ سے کسی کو محبت نہیں ہوئی

ضیاء الحسن

ابھی مجھ سے کسی کو محبت نہیں ہوئی

ضیاء الحسن

MORE BYضیاء الحسن

    ابھی مجھ سے کسی کو محبت نہیں ہوئی

    سو دل کے باغ میں پھول بھی نہیں کھلے

    مجھے ہر عورت کے سینے پر پستان

    اور رانوں کے بیچ قوس نظر آتی ہے

    ابھی محبت شروع نہیں ہوئی

    میں ہر ہم بستری کے بعد بیزار ہو جاتا ہوں

    اور پھر سے اس کام کے لئے تیار ہو جاتا ہوں

    میں پستانوں اور رانوں میں

    محبت تلاش کرنے کے کار بے سود میں مصروف ہوں

    محبت کے موسم تک

    عشرت کے رستے جایا جا سکتا

    تو میں کب کا پہنچ گیا ہوتا

    نظر کرتا ہوں تو لگتا ہے

    زندگی سے کچھ اور بھی دور نکل آیا ہوں

    مجھے موت سے ڈر لگنے لگا ہے

    کیونکہ ابھی مجھ سے کسی کو محبت نہیں ہوئی

    قتل عام جاری ہے

    اگلے پڑاؤ تک

    کار محبت موقوف کر دیا گیا ہے

    قسمت کو کاغذ کے ٹکڑوں

    اور بارود سے منسلک کر دیا گیا ہے

    آبادی کا مسئلہ درپیش ہے

    محبت کو کسی فارغ وقت پر اٹھا دیا گیا ہے

    بہار آنے تک

    یہ موسم تو طے کرنا پڑے گا

    مأخذ :
    • کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 75)
    • Author : Zahid Hasan
    • مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
    • اشاعت : 2002

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY