جواں مرگ کا نوحہ

راحت نسیم ملک

جواں مرگ کا نوحہ

راحت نسیم ملک

MORE BYراحت نسیم ملک

    ہمیں جوانی میں موت آئے گی

    بھیگتے تکیے کے سرد سینے پہ

    اپنی سانسوں میں گرم بانہوں کی پیاس لے کر سلگنے والی

    ہر ایک دوشیزہ جانتی ہے

    کہ آنکھ جب خواب کے صحیفے کو چاٹ لے گی

    تو نوح کیپسول سے پکارے گا

    پیارے بیٹے، اماں میں آؤ

    لو، میں نے جو قبر عمر کے بیلچے سے اپنے لئے بنائی ہے

    اس کی رانوں میں

    تم بھی اپنا بدن سمیٹو

    تمہارے ایک ہاتھ چاند اور دوسرے پہ سورج

    کہ مصلحت کی کریز قائم رہے

    گلیمر تمہارے کالر میں پھول بن کر کھلے

    اے بیٹے، یہ شہر عریانیوں میں نچڑے گا

    اور اس پر عذاب دائم ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 42)
    • Author : Zahid Hasan
    • مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
    • اشاعت : 2002

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY