کنیز

MORE BYاحمد فراز

    حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پر

    حضور کی تمام تر بلائیں میری جان پر

    حضور خیریت تو ہے حضور کیوں خموش ہیں

    حضور بولئے کہ وسوسے وبال ہوش ہیں

    حضور ہونٹ اس طرح سے کپکپا رہے ہیں کیوں

    حضور آپ ہر قدم پہ لڑ کھڑا رہے ہیں کیوں

    حضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہے

    حضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہے

    حضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پر

    حضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پر

    حضور منہ سے بہ رہی ہے پیک صاف کیجئے

    حضور آپ تو نشے میں ہیں معاف کیجئے

    حضور کیا کہا میں آپ کو بہت عزیز ہوں

    حضور کا کرم ہے ورنہ میں بھی کوئی چیز ہوں

    حضور چھوڑیئے ہمیں ہزار اور روگ ہیں

    حضور جائیے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Ahmed Faraz (Pg. 444)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY