کوسا دودھ

شہزاد حسن

کوسا دودھ

شہزاد حسن

MORE BYشہزاد حسن

    تو یہ دودھ کوسا ہے!

    یہ دودھ ہے اور کوسا ہے

    جس سے بدن کی نسیں اونگھ جاتی ہیں

    جس سے مرے دل کی باقاعدہ دھڑکنوں میں

    اضافے کی صورت نہیں

    یہ وہی دودھ ہے جس کو فرہاد کی گرمیٔ شوق نے

    بیستوں کی سیہ چوٹیوں سے اتارا

    تو اس کے لہو کی حرارت کا جویا ہوا

    پھر بھی کوسا رہا

    یہ وہی دودھ ہے

    چاندنی بن کے جو گرمیوں کے کسی ماہ کی چودھویں رات کو

    آسماں پر زمیں پر دلوں میں نگاہوں میں

    بہتا ہے لیکن

    کسی کے لبوں کو جلاتا نہیں ہے

    یہ سورج کا سایہ ہے لاوا نہیں ہے!

    تم اپنے پیالے کو بھٹی میں رکھ دو!

    کہ یہ دودھ ابلتا رہے

    یہ پیالہ بھی ڈھل جائے

    یہ دودھ جل جائے

    اور اس طرح مشک نافہ بنے

    جس کی خوشبو کی طاقت نہ لائے کوئی شخص بھی

    جس کی خوشبو سے ہر مغز سے خون بہنے لگے!

    مأخذ :
    • کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 71)
    • Author : Zahid Hasan
    • مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
    • اشاعت : 2002

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY