تم جہاں سے سیب کاٹو گی

ارشاد شیخ

تم جہاں سے سیب کاٹو گی

ارشاد شیخ

MORE BYارشاد شیخ

    سردی کی دھوپ

    تمہارے بدن کی طرح

    گرم ہے

    میں نے کاغذ کی کشتی بنا کر

    اس پر تیرا اور اپنا نام لکھ کر

    اسے چشمہ میں ڈالا ہے

    جس میں سے

    تم ابھی نہا کر باہر نکلی ہو

    آرام کرسی پر بیٹھ کر

    بال سکھاتے ہوئے

    تم مسکرا رہی ہو

    میرے ہاتھ میں ایک سیب ہے

    جس کو تم جہاں سے بھی کاٹو گی

    وہاں سے میٹھا نکلے گا

    مأخذ :
    • کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 24)
    • Author : Zahid Hasan
    • مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
    • اشاعت : 2002

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY