اداسی ایک لڑکی ہے

انوار فطرت

اداسی ایک لڑکی ہے

انوار فطرت

MORE BYانوار فطرت

    دسمبر کی گھنی راتوں میں

    جب بادل برستا ہے

    لرزتی خامشی

    جب بال کھولے

    کاریڈوروں میں سسکتی ہے

    تو آتش دان کے آگے

    کہیں سے وہ دبے پاؤں

    مرے پہلو میں آتی ہے

    اور اپنے مرمریں ہاتھوں سے

    میرے بال سلجھاتے ہوئے

    سرگوشیوں میں درد کے قصے سناتی ہے

    جولائی کی دوپہریں

    ممٹیوں سے جب اتر کر

    آنگنوں میں پھیل جاتی ہیں

    باتوں کے بسکٹ پھول جاتے ہیں

    تو وہ بھی جنگلی بیلوں سے

    اٹھتی خوشبوؤں سے جسم پاتی ہے

    مرے نزدیک آتی ہے

    مری سانسوں کی پگڈنڈی پہ

    دھیرے دھیرے چلتی ہے

    مرے اندر اترتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 32)
    • Author : Zahid Hasan
    • مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
    • اشاعت : 2002

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY