وہ مر چکا ہے

سرمد صہبائی

وہ مر چکا ہے

سرمد صہبائی

MORE BYسرمد صہبائی

    وہ جس کے رستے پہ بال کھولے

    نگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیں

    وہ مر چکا ہے

    وہ مر چکا ہے

    کہ جس کی خاطر نگر کی نو عمر لڑکیوں نے

    بدن کی خوش رنگ زینتوں کو

    چھپا کے رکھا

    جنہوں نے بیتاب حدتوں کو

    بدن کی پھٹ پڑتی شدتوں کو

    سنبھالے رکھا

    جنہوں نے آنکھوں کے نم کو شرم و حیا کے آنچل کی اوٹ ڈھانپا

    وہ مر چکا ہے

    وہ جس کے رستے پہ بال کھولے

    نگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیں

    نگر کی سب لڑکیاں پکاریں

    بدل کے وہ بھیس بادلوں کا

    ہمارے تازہ کنوارے جسموں کی سوندھی مٹی سے آ کے لپٹے

    ہمارا خون بوند بوند

    گوندھے

    ہم اس کے سائے سے حاملہ ہوں

    نگر کی سب لڑکیاں پکاریں

    کبھی وہ گونجے گجر کی صورت

    ہمارے سنسان گنبدوں میں

    کبھی وہ بھڑکے الاؤ بن کر

    ہمارے تا یک طاقچوں میں

    کبھی وہ جسموں کی بنسیوں میں

    شگاف ڈالے

    لذیذ دردیلا گیت بن کر

    لبوں سے نکلے

    کبھی وہ چمکے ستارہ بن کر

    ہماری کوکھوں میں پھول مہکیں

    ہماری کوکھوں میں پھل جنم لے

    نگر کی سب لڑکیاں پکاریں

    نگر کی سب لڑکیاں پکاریں

    ہماری خواہش وہ دودھ بن کر

    ہماری زرخیز چھاتیوں کی نمی میں اترے

    ہماری خواہش ہمارے بچے

    اسی کے ہاتھوں میں آنکھ کھولیں

    ہم اس کے سائے سے حاملہ ہوں

    نگر کی سب لڑکیاں پکاریں

    کبھی وہ پچھلے پہر دریچوں پہ کھلتے مہتاب سے یہ کہتیں

    کہاں ہے وہ شہسوار جس کو

    بوقت رخصت گلے میں ہم نے

    سفید پھولوں کے ہار ڈالے

    وہ پھول کب سرخ پھول بن کر

    ہماری ویران خواب گاہوں کی سیج ہوں گے

    سیندور کب کب میں میں گا

    یہ پھول کب سرخ پھول ہوں گے

    کبھی وہ تنہا بر‌ آمدے کے ستون سے لپٹی

    لچکتی بیلوں کے زرد پتوں سے پوچھتیں یہ

    بہار کی رت کہاں کھڑی ہے

    یہ پھول اب کس سے کھلیں گے

    بہار کی رت ابھی کہاں ہے

    ہر اک مسافر کو روکتیں وہ

    بتاؤ وہ شہسوار اب کب

    نگر کو لوٹے گا پوچھتیں وہ

    کنوارے لمحوں کا بھید کنوارہ

    کنوارے گیتوں کی لے کنواری

    کنوارے جسموں کی کچی کلیوں کا نم کنوارہ

    نگر کی تمام نو عمر لڑکیوں نے

    کلی کلی کو سنبھالے رکھا

    کہ وہ اگر آئے اوس بن کر

    تو قطرہ قطرہ کلی میں اترے

    کلی کو کھولے

    مگر وہ لفظوں کے دائروں کے سفر سے گزرا

    پرانی سنسان سیڑھیوں کے بھنور سے نکلا

    جو گھر سے باہر ہزار انجانے راستوں پر بکھر گیا تھا

    کہ بجھتے سورج کا کھوج پائے

    ہر ایک سائے کا بھید کھولے

    جو اپنی آنکھوں میں خواہشوں کا الاؤ لے کر

    اندھیرے جنگل میں چل رہا تھا

    جو پوچھتا تھا

    گیان کیا ہے

    جو پوچھتا تھا نجات کس میں ہے

    اصل کیا ہے

    وہ مر چکا ہے

    وہ جس کے رستے پہ بال کھولے

    نگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 56)
    • Author : Zahid Hasan
    • مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
    • اشاعت : 2002

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY