دوراہا

جاوید اختر

دوراہا

جاوید اختر

MORE BYجاوید اختر

    INTERESTING FACT

    اپنی بیٹی زویاؔ اختر کے نام

    یہ جیون اک راہ نہیں

    اک دوراہا ہے

    پہلا رستہ

    بہت سہل ہے

    اس میں کوئی موڑ نہیں ہے

    یہ رستہ

    اس دنیا سے بے جوڑ نہیں ہے

    اس رستے پر ملتے ہیں

    ریتوں کے آنگن

    اس رستے پر ملتے ہیں

    رشتوں کے بندھن

    اس رستے پر چلنے والے

    کہنے کو سب سکھ پاتے ہیں

    لیکن

    ٹکڑے ٹکڑے ہو کر

    سب رشتوں میں بٹ جاتے ہیں

    اپنے پلے کچھ نہیں بچتا

    بچتی ہے

    بے نام سی الجھن

    بچتا ہے

    سانسوں کا ایندھن

    جس میں ان کی اپنی ہر پہچان

    اور ان کے سارے سپنے

    جل بجھتے ہیں

    اس رستے پر چلنے والے

    خود کو کھو کر جگ پاتے ہیں

    اوپر اوپر تو جیتے ہیں

    اندر اندر مر جاتے ہیں

    دوسرا رستہ

    بہت کٹھن ہے

    اس رستے میں

    کوئی کسی کے ساتھ نہیں ہے

    کوئی سہارا دینے والا نہیں ہے

    اس رستے میں

    دھوپ ہے

    کوئی چھاؤں نہیں ہے

    جہاں تسلی بھیک میں دے دے کوئی کسی کو

    اس رستے میں

    ایسا کوئی گاؤں نہیں ہے

    یہ ان لوگوں کا رستا ہے

    جو خود اپنے تک جاتے ہیں

    اپنے آپ کو جو پاتے ہیں

    تم اس رستے پر ہی چلنا

    مجھے پتا ہے

    یہ رستہ آسان نہیں ہے

    لیکن مجھ کو یہ غم بھی ہے

    تم کو اب تک

    کیوں اپنی پہچان نہیں ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Tarkash (Pg. 128)
    • Author : Javed Akhtar
    • مطبع : Star Publications Pvt. Ltd (2008)
    • اشاعت : 2008

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY