مرحوم

منوج اظہر

مرحوم

منوج اظہر

MORE BYمنوج اظہر

    کبھی تصویر سے باہر نکل کر بول بھی اٹھو

    ہمیشہ ایک سا چہرہ لئے کیوں تکتے رہتے ہو

    ذرا ہونٹوں کو جنبش اور لفظوں کو رہائی دو

    اکیلا پڑ گیا ہوں میں ذرا میری صفائی دو

    ماں اکثر میری کھانسی پر تمہارا دھوکا کھاتی ہے

    یہ بڑ کی میری اک عادت تمہاری سی بتاتی ہے

    تمہاری یاد آتی ہے

    کبھی پوچھو کہ اتنی رات کو کیوں گھر میں آتا ہوں

    کبھی ڈانٹو کہ میں اس طرح کیوں پیسے اڑاتا ہوں

    جنہیں تم ٹوکتے تھے میں وہ سارے کام کرتا ہوں

    تمہارا نام کرنے سے رہا بدنام کرتا ہوں

    میں اک ہوٹل میں سگریٹ پی رہا ہوں تم دکھائی دو

    میں روٹھا ہوں میرا کاندھا چھوؤ

    پھر مسکراؤ اور کھانے پر بلا لو

    مجھے ڈر لگ رہا ہے آج

    مجھ کو اپنے بستر پر سلا لو

    میں اس میلے میں چل کر تھک گیا ہوں

    اپنے کاندھے پر بٹھا لو

    قدم پھر لڑکھڑاتے ہیں

    مجھے انگلی دو گرتا ہوں سنبھالو

    مجھے سر درد ہے سر چھو کے

    اپنے لمس کی عمدہ دوائی دو

    میں پھر سے پاس ہو کر آ گیا ہوں تھپتھپاؤ

    تو آخر میرا بیٹا ہے کہو ماں کو چڑھاؤ

    مجھے پھر سے اسی حلوائی کی لا کر مٹھائی دو

    سنو اب لوگ اکثر پوچھتے ہیں

    کس کے بیٹے ہو

    تمہارا نام لیتا ہوں

    تو وہ مرحومؔ کہتے ہیں

    مگر نادان ہیں وہ

    باپ بھی مرحوم ہوتا ہے

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY