میلے

جاوید اختر

میلے

جاوید اختر

MORE BY جاوید اختر

    باپ کی انگلی تھامے

    اک ننھا سا بچہ

    پہلے پہل میلے میں گیا تو

    اپنی بھولی بھالی

    کنچوں جیسی آنکھوں سے

    اک دنیا دیکھی

    یہ کیا ہے اور وہ کیا ہے

    سب اس نے پوچھا

    باپ نے جھک کر

    کتنی ساری چیزوں اور کھیلوں کا

    اس کو نام بتایا

    نٹ کا

    بازی گر کا

    جادوگر کا

    اس کو کام بتایا

    پھر وہ گھر کی جانب لوٹے

    گود کے جھولے میں

    بچے نے باپ کے کندھے پر سر رکھا

    باپ نے پوچھا

    نیند آتی ہے

    وقت بھی ایک پرندہ ہے

    اڑتا رہتا ہے

    گاؤں میں پھر اک میلہ آیا

    بوڑھے باپ نے کانپتے ہاتھوں سے

    بیٹے کی بانہہ کو تھاما

    اور بیٹے نے

    یہ کیا ہے اور وہ کیا ہے

    جتنا بھی بن پایا

    سمجھایا

    باپ نے بیٹے کے کندھے پر سر رکھا

    بیٹے نے پوچھا

    نیند آتی ہے

    باپ نے مڑ کے

    یاد کی پگڈنڈی پر چلتے

    بیتے ہوئے

    سب اچھے برے

    اور کڑوے میٹھے

    لمحوں کے پیروں سے اڑتی

    دھول کو دیکھا

    پھر

    اپنے بیٹے کو دیکھا

    ہونٹوں پر

    اک ہلکی سی مسکان آئی

    ہولے سے بولا

    ہاں!

    مجھ کو اب نیند آتی ہے

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین

    فہد حسین

    Mele فہد حسین

    مآخذ:

    • کتاب : LAVA (Pg. 121)
    • Author : Javed Akhtar
    • مطبع : Rajkamal Parakashan Pvt. Ltd (2012)
    • اشاعت : 2012

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY