خواب

MORE BYپروین شاکر

    کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاں

    نرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئی

    بات بے بات ہنستی ہوئی

    اپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیں

    جو خاموش تھیں

    ان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھی

    ان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا!

    آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے!

    دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچی

    ہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبر

    ریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھی

    اور میں سوچتی تھی

    خدایا! یہ ہم لڑکیاں

    کچی عمروں سے ہی خواب کیوں دیکھنا چاہتی ہیں

    خواب کی حکمرانی میں کتنا تسلسل رہا ہے!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY