خون پھر خون ہے

ساحر لدھیانوی

خون پھر خون ہے

ساحر لدھیانوی

MORE BY ساحر لدھیانوی

    INTERESTING FACT

    ایک مقتول لومباؔ ، ایک زندہ لومباؔ سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا ہے ۔۔۔۔ جواہر لال نہرو

    ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

    خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

    خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے

    فرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے

    تیغ بیداد پہ یا لاشۂ بسمل پہ جمے

    خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

    لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں

    خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

    سازشیں لاکھ اڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب

    لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ

    ظلم کی قسمت ناکارہ و رسوا سے کہو

    جبر کی حکمت پرکار کے ایما سے کہو

    محمل مجلس اقوام کی لیلیٰ سے کہو

    خون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہے

    شعلۂ تند ہے خرمن پہ لپک سکتا ہے

    تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا

    آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے

    کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر

    خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے

    سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے

    ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا

    ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک

    خون پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے

    ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے

    ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے

    ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے

    مآخذ:

    • Book : Kulliyat-e-Sahir (Pg. 200)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY