میز پر رکھے ہیں ہاتھ
ہاتھوں کو میز پر سے اٹھاتی ہوں
پھر بھی پڑے رہتے ہیں
میز پر
اور ہنستے ہیں
میز پر رکھے
اپنے ہی دو ہاتھوں کو
ہاتھوں سے اٹھانا مشکل لگتا ہے
میں ہاتھوں کو دانتوں سے
اٹھاتی ہوں
پر ہاتھ نہیں اٹھتے
میز پر رہ جاتے ہیں
دانتوں کے نشانوں سے بھرے ہوئے
ساکت اور گھورتے ہوئے
میں بھی ہاتھوں کو گھورتی ہوں
میز کا رنگ آنکھوں میں
بھر جاتا ہے
میں آنکھیں بند کر لیتی ہوں
سو جاتی ہوں
میز پر رکھے ہوئے ہاتھوں پر
سر رکھ کر
- کتاب : Meez per rakhe haath (Pg. 14)
- Author : Azra Abbas
- مطبع : Classic Publishers, Karachi (1998)
- اشاعت : 1998
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.