ماں

MORE BY عذرا پروین

    INTERESTING FACT

    12 اپریل 2004 ایک جسم کی موت پر جس کی روح کو بہت پہلے مار دیا گیا!

    تمام لفظوں میں روشن ہر اک باب میں ماں

    جنوں کے شیلف میں ہے عشق کی کتاب میں ماں

    اے ماں تو خوشبو کا نایاب استعارہ ہے

    اے ماں تو عود میں عنبر میں تو گلاب میں ماں

    خود اپنی ممتا میں ہی نور کا سمندر ہے

    نہیں ہے اور کسی روشنی کی تاب میں ماں

    وہ جسم کھو کے بدل سی گئی ہے کچھ مجھ میں

    تھی پہلے صرف سوال اب ہے ہر جواب میں ماں

    مرے سوالوں کے سارے جواب لے آئی

    چلی گئی تھی مگر لوٹی پھر سے خواب میں ماں

    میں جب بھی ذبح ہوئی زندگی کے خنجر سے

    دکھی ہے خوابوں میں اک دشت اضطراب میں ماں

    گنوا کے جسم وہ فرصت سے آئی میرے پاس

    سسک سسک کے سنایا تھی کس عذاب میں ماں

    میں ماں کی زندہ نگاہوں کو خود میں جیتی ہوں

    ہر انقلاب میں ہر دم ہر آب و تاب میں ماں

    مرے عروج کا وہ سلسلہ انعام و سزا

    مرے زوال میں ہر زندہ انقلاب میں ماں

    تجھے لبھانے کو میں سترنگی بنی تھی ماں

    یہ جا چھپی ہے تو کس پردۂ غیاب میں ماں

    بندھی ہیں آنکھیں مری اب بھی موت کے پل سے

    ہے ہر سکوت میں خاموش اضطراب میں ماں

    امڈ رہے ہیں ہر اک پل سے موت کے ٹھٹھے

    وہ جا رہی ہے مری پنجۂ عقاب میں ماں

    وہ جسم ہار گئی موت سے مگر مجھ میں

    وہ جی کے گویا ہے پھر موت سے جواب میں ماں

    مآخذ:

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY